بھٹکل 18 نومبر (ایس او نیوز) ایک نوجوان کنڑا صحافی پرنامعلوم لوگوں نے بری طرح حملہ کرکے اس کے ہاتھ اور پیر توڑ دئے اور اسے زخمی حالت میں روڈ پر ہی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ واردات جمعرات شام کو پیش آئی ہے۔ زخمی صحافی کی شناخت کراولی سماچار نامی یو ٹیوب چینل چلانے والے رگھو ملیا، عرف ارجن ملیا (30) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
ملیا گذشتہ دو تین سالوں سے مقامی خبروں کو سوشیل میڈیا پر اپنے ایک مخصوص انداز میں پیش کررہا تھا ،جبکہ قریب ایک سال سے اس نے اپنا ایک کنڑا نیوز کا یوٹیوب چینل شروع کیا ہے جس پر وہ بے باک رپورٹنگ کرتا ہے، خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حال ہی میں پیش کی گئی ایک رپورٹ پر ناراض لوگوں نے اس پر حملہ کیا ہوگا۔
پتہ چلا ہے کہ شام قریب چھ بجے ملیا اپنی بائک پر بھٹکل شہر سے بیلکے میں واقع اپنے گھر جارہا تھا کہ گھر کے کچھ ہی فرلانگ کے فاصلے پر نیشنل ہائی وے 66 پر اچانک بائک پر آئے چھ لوگوں نے، جنہوں نے اپنا چہرہ کپڑوں سے ڈھانک رکھا تھا، اس پر راوڈ اور ڈنڈوں سے تابڑ توڑ وار کرنا شروع کردیا، اچانک حملہ کرنے کی وجہ سے ملیا بائک سمیت نیچے گرپڑا، جس کے بعد اس کی مزیدپیٹائی کی گئی اورکافی زدوکوب کے بعد اسے سڑک پر ہی تڑپتا بلکتا چھوڑ کر حملہ آور فرار ہوگئے۔ حملہ میں ملیا کا ایک ہاتھ اور ایک پیر ٹوٹ گیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ قریب سے گذرنے والے ایک آٹو ڈرائیور نے اسے شدید زخمی حالت میں سڑک پر گرا ہوا دیکھ کر فوری اپنے آٹو پر بٹھاکر بھٹکل سرکاری اسپتال پہنچایا۔ جہاں سے ابتدائی طبی امداد کے بعد ملیا کو کنداپور شفٹ کیا گیا ہے۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی بھٹکل مضافاتی پولس تھانہ کے پی ایس آئی بھرت نے سرکاری اسپتال پہنچ کر معلومات جمع کی ، بعد میں پولس کی ایک ٹیم کنداپور اسپتال بھی پہنچ گئی ہے اور حملہ اور حملہ آوروں کے تعلق سے تفصیلات جمع کی جارہی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ کچھ روز قبل ملیا نے غیر قانونی اسپیڈ اڈوں کے متعلق رپورٹنگ کی تھی جس کو دیکھتے ہوئے ملیا کے والد نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس حملہ کے پیچھے اسپیڈ مافیا کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
ایک صحافی پر اس طرح کھلے عام دن دھاڑے نیشنل ہائی وے پر حملہ کرنے اور اسے بری طرح زد وکوب کئے جانے پر بھٹکل کے پریس رپورٹروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔